7

کورونا کے مریضوں کی جان بچانے والی ’پہلی دوا‘ کا استعمال شروع

برطانیہ میں طبی محققین کی ایک ٹیم کو عالمی وبا کورونا وائرس کے مریضوں کو دی جانے والی ادویات میں سے سٹیرائیڈ ’ڈیکسامیتھاسون‘ کے اثرات نے حیران کیا ہے جس کے استعمال سے ایک تہائی انتہائی بیمار مریضوں کی جان بچائی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس دوا کے اثرات اور نتائج کو کورونا کی بیماری کے خلاف جنگ میں غیر معمولی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے طبی محققین کی ایک ٹیم نے عام دستیاب ’ڈیکسامیتھاسون‘ دو ہزار سے زائد انتہائی بیمار مریضوں کو دی۔ ان میں سے ایسے مریض بھی تھے جو وینٹی لیٹر پر تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ تین ماہ قبل جب اس دوا کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوئے تو ملک میں اس کی وافر دستیابی کی وجہ سے اسے سٹاک کیا جانا شروع کیا گیا۔
میٹ ہینکاک نے کہا کہ اس وقت برطانیہ میں اس دوا کے دو لاکھ کورسز دستیاب ہیں جو نیشنل ہیلتھ سروس کے ساتھ مل کر وبا سے متاثرہ افراد کے علاج میں استعمال کیے جائیں گے۔

اے ایف پی کے مطابق آکسفورڈ کی محققین کی ٹیم نے بتایا کہ ’ڈیکسامیتھاسون‘ کی روزانہ خوراک وینٹی لیٹر پر موجود آٹھ میں سے ایک مریض کو بچا سکتی ہے اور ہر 25 میں سے ایک ایسے مریض کو موت سے بچا سکتی ہے جس کو آکسیجن کی ضرورت ہے۔
اس ٹرائل میں چار ہزار ایسے مریضوں کو بھی شامل کیا گیا تھا جن کو علاج کے دوران ڈیکسامیتھاسون استعمال نہیں کرائی گئی۔
 آکسفورڈ یونیورسٹی کے شعبہ میڈیسن کے پروفیسر پیٹر ہاربی نے کہا کہ ’ڈیکسامیتھاسون وہ پہلی دوا ہے جس نے کورونا کے شکار مریضوں کی جان بچانے میں کامیابی دکھائی ہے۔‘ انہوں نے نتائج کو انتہائی خوش کن قرار دیا۔
پروفیسر پیٹر ہاربی کا کہنا تھا کہ ڈیکسامیتھاسون کم قیمت ہے اور دنیا بھر میں زندگیاں بچانے میں فوری طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں